یہ کشمیر کی لڑائی بھی کچھ عجیب و غریب تھی۔ صوبیدار رب نواز کا دماغ ایسی بندوق بن گیا تھا جس کا گھوڑا خراب ہو گیا ہو ۔ پچھلی بڑی جنگ میں وہ کئی محاذوں پر لڑ چکا تھا مارنا اور مرنا جانتا تھا چھوٹے بڑے افسروں کی نظروں میں اس کی بڑی تو قیر تھی ، اس لیے کہ وہ بڑا ایسیا در نڈر راور سمجھدار ساہی تھا۔ پلاٹون کمانڈ رمشکل کام ہمیشہ اسے ہی سونپتے تھے اور وہ ان سے عہدہ برآ ہوتا تھا۔ مگر اس لڑائی کا ڈھنگ بھی نرالا تھا دل میں بڑا ولولہ ، بڑا جوش تھا۔ بھوک پیاس سے بے پرواہ صرف ایک ہی لگن تھی ، دشمن کا صفایا کر دینے کی، مگر جب اس سے سامنا ہوتا تو جانی پہچانی صورتیں نظر آ تہیں بعض دوست دکھائی دیتے، بڑے بغلی قسم کے دوست، جو پچھلی لڑائی میں اس کے دوش بدوش، اتحادیوں کے دشمنوں سے لڑے تھے ، پر اب جان کے پیاسے بنے ہوئے تھے۔ صوبیدار رب نواز سوچتا تھا کہ یہ سب خواب تو نہیں پچھلی بڑی جنگ کا اعلان ۔۔۔۔۔۔ بھرتی ، قد اور چھاتیوں کی پیمائش، پی ٹی، چاند ماری اور پھر مجاز ۔۔۔۔۔ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر، آخر جنگ کا خاتمہ، پھر ایک دم پاکستان کا قیام اور ساتھ ہی کشمیر کی لڑائی، اوپر سے کتنی چیز میں رب نواز سوچتا تھا کہ ...